Best Poetry Soul: Pure Urdu Poetry
Showing posts with label Pure Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Pure Urdu Poetry. Show all posts

Wednesday, 24 September 2025

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

 سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

.

کیا اہلِ جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے

کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے

.

کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر

بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے

.

رندوں کو ڈرا سکتے ہیں کیا حضرتِ واعظ

جو کہتے ہیں اللہ سے ڈر کر نہیں کہتے

.

ہر بار نئے شوق سے ہے عرضِ تمنّا

سو بار بھی ہم کہہ کے مکرر نہیں کہتے

.

مے خانے کے اندر بھی وہ کہتے نہیں مےخوار

جو بات کہ مےخانے کے باہر نہیں کہتے

.

کہتے ہیں محبت فقط اس حال کو بسمل

جس حال کو ہم ان سے بھی اکثر نہیں کہتے

.

*_(بسمل سعیدی)_*

Friday, 29 August 2025

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا

اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا

نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے

نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا

ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر

تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا

اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا

یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے

کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں

وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بُری نہیں

نہ ملال کر میرے ساتھ آ ، جو گزر گیا سو گزر گیا

*بشیر بدر*

یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس

یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس

جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس

بولا وہ بُت سرہانے مرے آکے وقتِ نزع

فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟

امیر مینائی

سُخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

 سُخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا

عزیزو کہاں تک یہ عاشق مزاجی

تمہیں جلد ترخاک ہونا پڑے گا

رہا دوستی پر نہ تکیہ کسی کی

بس اب دل سے شکوؤں کو دھونا پڑیگا

بن آئے گی ہرگز نہ یاں کچھ کیے بِن

جو کچھ کاٹنا ہے تو بونا پڑے گا

ہوئے تُم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ

مگر اب مری جان ہونا پڑے گا


*مولانا الطاف حُسین حالیؔ*

از:-انتخاب غزلیاتِ حالیؔ ص ۲ٰ۷

تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال ویسے ہی

تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال ویسے ہی

 ہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہی

چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا

سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی

ہم آ گئے ہیں تہہِ دام تو نصیب اپنا

وگرنہ اُس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی

میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اُس کا

گری نہیں مرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی

زمانہ ہم سے بھلا دشمنی تو کیا رکھتا

سو کر گیا ہے ہمیں پائمال ویسے ہی

مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا

فرازؔ اُس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی

احمد فراز

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے


سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی

پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا

تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے


احمد فراز

ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے

ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے

حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے

خشک آنکھوں سے بھی اشکوں کی مہک آتی ہے

میں تیرے غم کو زمانے سے چھپاؤں کیسے

تیری صورت ہی میری آنکھ کا سرمایہ ہے

تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے

تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے

میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے

پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا بھی رہتا

زخم لے کر تیری دہلیز پہ آؤں کیسے

آئینہ ماند پڑے سانس بھی لینے سے عدیم

اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے

وہ رلاتا ہے رلائے مجھے جی بھر کے عدیم

میری آنکھیں ہے وہ میں اس کو رلاؤں کیسے


عدیم ہاشمی

کچھ تو کم ہو یہ گھٹن ' شور و صدا آنے دے

کچھ تو کم ہو یہ گھٹن ' شور و صدا آنے دے

رُخ پہ مت بیٹھ ' ذرا تازہ ہوا آنے دے

خواب میں سارے ہی گُل بوٹے کھلائے اس سال

آگے پت جھڑ ہے وہی ' سال نیا آنے دے

جَوالا بڑھتی ہی رہی اور بدن کی اُس کے

ایسی رُت میں اُسے اب کون بھلا آنے دے

کبھی تعمیر کیا تھا کوئی پیکر جس سے

اب مرے سامنے وہ حرفِ وفا آنے دے

دیکھنا آتے ہیں پھر کتنے حسینوں کے خطوط

کچھ رسالوں میں مرا نام پتا آنے دے

*عبداللّٰہ کمال*

رہوں خاموش یا پھر دل کی میں ہر بات کر ڈالوں

 رہوں خاموش یا پھر دل کی میں ہر بات کر ڈالوں

رہوں خاموش یا پھر دل کی میں ہر بات کر ڈالوں،

ہِلاؤں لب یا پھر اَشکوں کی ہی برسات کر ڈالوں.

سرِ محفل تمہارا نام لے کے میں کروں رُسوا،

یا پھر ضبطِ مسلسل میں فنا جذبات کر ڈالوں.

زمانے بھر کی رُسوائی مرے سر ڈال دی تو نے،

سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا حالات کر ڈالوں.

بہت دھوکا دیا ہے مجھ کو اِن دن کے اُجالوں نے،

مِرا جو بس چلے اَعظم میں ہر دن کو رات کر ڈالوں

اعظم

بیٹھا ھے کس خیال سے، اے قلبِ نامراد

بیٹھا ھے کس خیال سے، اے قلبِ نامراد

اُس گھر میں کون آئے گا ، جس میں دیا نہ ھو ؟؟

ایسی تو بد لحاظ نہ تھی ، وہ ستم ظریف

اے زیست ، تُو نے موت سے کچھ کہہ دیا نہ ھو

لب جل گئے ھیں تلخی صہبائے زیست سے

اے پیرِ مئے کدہ یہ تیری بد دُعا نہ ھو

انساں کو کوسئیے کہ مشیت کو کوسیئے

پردے میں نا خدا کے ، رضائے خدا نہ ھو

میری نوا , سکوتِ بیاباں کی گونج ھے

اے آبروئے نطلق ، میری ھمنوا نہ ھو

*عبدالحمّید آدم *

حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے

 حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے

بھلا بے فیض لوگوں سے محبت کون کرتا ہے

بتاؤ جس تجارت میں خسارہ ہی خسارہ ہو

بنا سوچے خسارے کی تجارت کون کرتا ہے

ہمیں ہی غلط فہمی تھی کسی کے واسطے ورنہ

زمانے کے رواجوں سے بغاوت کون کرتا ہے

خدا نے صبر کرنے کی مجھے توفیق بخشی ہے

ارے جی بھر کے تڑپاؤ شکایت کون کرتا ہے

کسی کے دِل کے زخموں پر مرہم رکھنا ضروری ہے

خلش اِس دوڑ میں ؟ لیکن یہ زحمت کون کرتا ہے

عباس خلش

Rage, Rage Against The Dying Of The Light.

 Rage, Rage Against The Dying Of The Light. Do Not Go Gentle Into That Good Night Old Age Should Burn And Rave At Close Of Day; Rage, Rage ...